خراب سیاست اور چنگیزی کا عالمی راج
خراب سیاست اور چنگیزی کا عالمی راج!
آج کی دنیا بظاہر ترقی، انسانی حقوق اور انصاف کے خوبصورت نعروں سے بھری ہوئی دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر کمزور قوموں کو مسلسل دبانے میں مصروف ہیں۔ طاقتور ممالک اپنی سیاسی اور معاشی برتری قائم رکھنے کے لیے جنگوں، سازشوں اور خوف کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں خونریزی، ظلم اور بے چینی عام ہوتی جا رہی ہے۔
فلسطین، کشمیر، شام اور دیگر مظلوم علاقوں میں ہزاروں معصوم انسان ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ عورتیں، بچے اور بزرگ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں، مگر عالمی ادارے اور انسانی حقوق کے دعویدار اکثر خاموش تماشائی دکھائی دیتے ہیں۔ انصاف کا معیار کمزور کے لیے الگ اور طاقتور کے لیے الگ نظر آتا ہے۔ یہی دوہرا معیار عالمی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
آج میڈیا بھی ایک بڑی طاقت بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے لوگوں کی سوچ کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ جھوٹ، فحاشی اور بے راہ روی کو آزادی کا نام دیا جاتا ہے جبکہ سچ بولنے والوں کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نوجوان نسل خاص طور پر اس یلغار کا شکار ہو رہی ہے، جس سے ان کی دینی، اخلاقی اور قومی اقدار متاثر ہو رہی ہیں۔
مصنف کے مطابق اسلام وہ واحد نظام ہے جو انسانیت کو حقیقی امن، انصاف اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ اسلام میں رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پر کوئی فرق نہیں رکھا گیا بلکہ ہر انسان کے حقوق کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر افسوس کہ مسلمان اپنی اصل تعلیمات سے دور ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے امت کمزور ہو رہی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اتحاد، علم، کردار اور ایمان کو مضبوط کریں۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے، سچائی اور انصاف کا ساتھ دے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرے۔ اگر ہم نے اپنی اخلاقی اور اسلامی اقدار کو اپنالیا تو نہ صرف معاشرہ بہتر ہوگا بلکہ امتِ مسلمہ دوبارہ عزت اور طاقت حاصل کر سکے گی۔
ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ صرف نعروں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات، اتحاد اور سچائی کی ضرورت ہے۔ یہی کامیابی اور ایک بہتر مستقبل کا راستہ ہے۔
آج ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم نے اپنے اسلاف کی تعلیمات اور قربانیوں کو فراموش کر دیا ہے۔ کبھی یہی مسلمان علم، عدل اور کردار میں دنیا کے لیے مثال تھے، مگر آج ہم فرقہ واریت، حسد، نفرت اور ذاتی مفادات میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ دشمن ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے جبکہ ہم آپس کے اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں۔
تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ اچھا انسان بننا بھی ہے۔ افسوس کہ آج کے تعلیمی نظام میں اخلاقیات اور کردار سازی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل مغربی ثقافت سے متاثر ہو کر اپنی تہذیب، روایات اور دینی اقدار سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والی نسلیں اپنی شناخت کھو بیٹھیں گی۔
معاشرے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ غریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے جبکہ امیر طبقہ مزید طاقتور بنتا جا رہا ہے۔ حکمران اپنی ذمہ داریوں سے غافل دکھائی دیتے ہیں اور عوام مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں قوموں کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
اسلام ہمیں صبر، اتحاد، انصاف اور خدمتِ انسانیت کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم اپنی زندگیوں میں دیانت داری، سچائی اور خوفِ خدا کو شامل کرلیں تو بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ ایک مضبوط قوم ہمیشہ اچھے کردار، علم اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے، نہ کہ صرف طاقت اور دولت پر۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی اصلاح کریں، نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں اور ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کریں جہاں انصاف، محبت اور بھائی چارہ موجود ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ترقی، عزت اور کامیابی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment